تشریحات | شرح اربعین نووی

Episode 32

عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أنّ رجلاً قال للنبيﷺ: أوصني, قال: “لا تغضب”, فردد مراراً قال: “لا تغضب”. (رواه البخاري،الرقم:(6116)
ترجمہ:سیدناابوھریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے،ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا:مجھے وصیت کیجئے،آپﷺ نے فرمایا:غصہ نہ کیاکرو، اس شخص نے کئی بار مزید وصیت کا تقاضاکیا،آپﷺ نے ہربار فرمایا: غصہ نہ کیاکرو۔
غصہ آنا ایک جبلی اورفطری امرہے،جس سے انسان کا باز آجانا ناممکنات میں سے ہے،اس لئے امام خطابی رحمه الله تعالى نے اس حدیث سے یہ مراد لیا ہے کہ ایسے اسباب سے بچوجوتمہیں غصہ میں مبتلاکردیں۔
وصیت طلب کرنے والے اس شخص کا نام بیان نہیں ہوا،لیکن نام کے ابہام سے حدیث کے حکم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی،نہ ہی نام کا ذکرہونا ضروری ہے، البتہ اگر نام مذکورہوتو یہ علم میں اضافہ شمار ہوگا، اس طرح کے مبہمات دیگرکئی احادیث میں بھی وارد ہیں۔
شخصِ مذکور کا نبیﷺ سے وصیت کا تقاضاکرنا، صحابہ کرام کے شوقِ طلب کی عمدہ مثال ہے،جبکہ وصیت کے اس تقاضے کو باربار دہرانا مزید واضح کرتا ہے کہ وہ علم نافع کی تحصیل میں کس قدر راغب وحریص تھے،اور یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام کا سوال کرنا،محض علمی اضافہ کے لئے نہیں ہوتاتھا،بلکہ عمل کے لئے ہوتاتھا؛کیونکہ حصولِ علم منزل نہیں ہے بلکہ اس علم پر عمل اصل منزل ہے۔
آج کی روش اس سے بالکل برعکس ہے،آج لوگ سوال تو کرتے ہیں،مگر عمل کے لئے نہیں بلکہ معلومات میں اضافے کا چسکا پورا کرنے کیلئے۔(واللہ المستعان)
واضح ہو کہ وصیت سے مراد کسی شخص کے لئے کسی اہم کام کی بابت عہدوپیمان دیناہے،فوت ہونے والے شخص کی اپنے مالی امور میں ہدایات جاری کرنا بھی وصیت کہلاتاہے،جسے شریعت نے ایک تہائی مال کی حد بندی کے ساتھ مقید فرمایاہے۔
رسول اللہ ﷺ نے وصیت کاتقاضا کرنےو الے کو غصہ نہ کرنے کی تلقین فرمائی،غضب ایک کیفیت کانام ہے،جودل کے خون کے جوش مارنے کے بسبب پیداہوتی ہے،اکثر اس کامقصد طلبِ انتقام ہوتا ہے،یہ کیفیت انتہائی مذموم ہے،لیکن اگر دین یاحق کے معاملے میں غضب ابھرے تو یہ انتہائی محمودومستحسن ہوگا۔
اللہ تعالیٰ بھی صفتِ غضب سے متصف ہے،اور اس کاغضب اسی قبیل سے ہے،یعنی دین اورحق کے معاملے میں،بلکہ مخلوقات کاغضب اللہ تعالیٰ کے غضب کا مقابلہ نہیں کرسکتا،اس کی تمام صفات،صفاتِ کمال ہیں،جن میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں۔
حق کے علاوہ آنے والاغضب قابلِ مذمت ہے،جس سے رسول اللہ ﷺنے باز رہنے کی وصیت فرمائی،جس صحابی کو یہ نصیحت فرمائی اس کا کہنا ہے (ففکرت حین قال النبی ﷺ ماقال فاذا الغضب یجمع الشرکلہ)یعنی:میں نے رسول اللہ ﷺ کی بار بار غضب نہ کرنے کی وصیت پرغورکیا تومجھ پر یہ عیاں ہوا کہ غضب میں تو ہر شر مجتمع ہے۔(مسنداحمد۵؍۳۳۷)
لہذا غصہ نہ کرنا انتہائی مستحسن اقدام شمارہوتاہے،جبکہ غصہ آنے پر اسے پی جانا تقویٰ کی علامت ہے:
[وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۝۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۝۱۳۳ۙالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۝۰ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۱۳۴ۚ وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۝۰۠ وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۣ۠ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝۱۳۵ ](آل عمران:۱۴۳تا۱۴۵)
ترجمہ:اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں، اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں۔
رسول اللہﷺنے بھی غصہ کنڑول کرنے والوں کی بڑی تعریف وتوصیف فرمائی ہے:
عن أبي هريرة- رضي الله عنه- أنّه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم:«ليس الشّديد بالصّرعة، إنّما الشّديد الّذي يملك نفسه عند الغضب»
( البخاري،الرقم(6114) ومسلم،الرقم:2609 .)
یعنی:ابوھریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کوبچھاڑدے،بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر کنڑول کرلے۔
ہمارا یہ مضمون ماہِ صیام میں پڑھاجائے گا،روزہ داروں کیلئے غصہ کو کنڑول کرنے کی خاص تاکید وفضیلت وارد ہے:
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ :إذا کان یوم صوم أحدکم فلایرفث ولایصخب، فإن سابہ أحد أو قاتلہ فلیقل إنی صائم.
(بخاری ومسلم)
یعنی:ابوھریرہ رضي الله تعالى عنه  سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:جس دن آپ کاروزہ ہواس دن فسق وفجور کے ارتکاب اور چیخنے چلانے سے گریزکرو،اگرکوئی شخٓص آپ کو گالی دے یا آپ سے لڑنے پر آمادہ ہوتو کہہ دو:میںتوروزےسے ہوں۔
رسول اللہ ﷺنے انسان کے غضبناک ہونے کی صورت میں کچھ ہدایات جاری فرمائی ہیں ،جنہیں بروئے کارلاکر غصہ کو بآسانی ٹھنڈا کیاجاسکتاہے،تاکہ مندرجہ بالافضائل سمیٹ سکے:
عن أبي ذرّ- رضي الله عنه- أنّه قال:قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «إذا غضب أحدكم وهو قائم فليجلس، فإن ذهب عنه الغضب وإلّا فليضطجع» (أبو داود،الرقم:4782)
یعنی:ابوذررضي الله تعالى عنه سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آجائے اور وہ کھڑاہوتوفوراً بیٹھ جائے،اگربیٹھ جانے سے غصہ ختم ہوجائے توٹھیک ہے ،ورنہ فوراً لیٹ جائے۔
عن عطيّة (وهو ابن سعد القرظيّ) رضي الله عنه- أنّه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «إنّ الغضب من الشّيطان، وإنّ الشّيطان خلق من النّار، وإنّما تطفأ النّار بالماء، فإذا غضب أحدكم فليتوضّأ»
(أبو داود ،الرقم:4784)
یعنی:عطیہ بن سعد القرظی رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:غصہ شیطان سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیاگیاہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے،لہذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آجائے تو فوراً وضوکرلے۔
(عن ابن عبّاس- رضي الله عنهما- أنّه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «علّموا ويسّروا ولا تعسّروا، وإذا غضب أحدكم فليسكت» )
(أحمد (1/ 239)
یعنی:عبداللہ بن عباس رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: علم سکھاؤاورآسانیاں فراہم کرواورتنگی پیدا نہ کرو،اور جب تم غضبناک ہوجاؤتوخاموشی اختیار کرلیاکرو۔
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ غضبناک ہونے کی صورت میں جگہ تبدیل کرنا،کھڑے ہوں توبیٹھ جانا،بیٹھے ہوں تولیٹ جانا،غصہ کو ختم کرنے میں انتہائی نافع ہے،اس کے علاوہ وضوکرنا اور خاموشی اختیار کرلینا بھی انتہائی مفید ہے۔
علاوہ ازیں تعوذ (یعنی :أعوذ باللہ من الشیطان الرجیمپڑھنا) بھی غضب کی کیفیت کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے؛کیونکہ غضب کا محرک شیطانِ لعین ہی ہے،رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو شدید غصہ میں دیکھا ،ارشادفرمایا:(إنی أعلم کلمۃ لوقالھا لذھب عنہ مایجد، لوقال:أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) یعنی: میں ایک ایساکلمہ جانتا ہوں،اگر یہ وہ کلمہ پڑھ لے تو اس کاغضب یکسرختم ہوجائے،کاش یہ شخص (أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)پڑھ لے۔(صحیح بخاری،الرقم:۳۲۸۲صحیح مسلم:۲۶۱۰)
واضح ہو کہ غصہ کرنا اس لئے بھی معیوب ومذموم ہے کہ یہ ضعفِ عقیدہ کاسبب بنتاہے،چنانچہ کسی کی زیادتی یا کسی نقصان وغیرہ پر غصہ کرنا ایمان بالقدر کے منافی ہے ؛کیونکہ آپ کو پہنچنے والاہرنقصان تقدیر میں لکھاہواہے،اگر اس نقصان کو نوشتۂ تقدیر قراردیکر صبرکرلیاجائے اور غصہ کو پی لیاجائے تو یہ قوی ایمان کی علامت ہوگا،نیز اللہ تعالیٰ کی رضاکا موجب ہوگا۔
رسول اللہ ﷺکی سیرتِ طیبہ سے اس قسم کے مواقع پر صبرو عزیمت اختیار کیے رکھنے کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں،وہ مشہور واقعہ اس پر شاہدِ عدل ہے جس میں ایک اعرابی نے آپﷺ کی گردن میں چادر ڈال دی اور بل دینا شروع کردیا ،رسول اللہ ﷺکی آنکھیں باہر کو آگئیں اور اس کھردری چادر نے آپ کی گردن پہ نشان ڈال دیئے، اس اعرابی نے رسول اللہ ﷺسے مالی مدد کا تقاضا کیا ۔
رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ اپناغصہ کنڑول کرلیا بلکہ اسے معاف بھی کردیا،بلکہ اس کے دونوں اونٹوں پر جواورکھجوروں کے بڑے بڑے بورے لدوادیئے۔(سنن ابی داؤد،الرقم:۴۷۷۵)
ہم اپنی گفتگوکااختتام حافظ ابن قیم رحمه الله تعالى کے ایک قول سے کرتے ہیں:
فرماتے ہیں:
قال ابن القيّم- رحمه الله تعالى-:«دخل النّاس النّار من ثلاثة أبواب: «باب شبهة أورثت شكّا في دين الله، وباب شهوة أورثت تقديم الهوى على طاعته ومرضاته وباب غضب أورث العدوان على خلقه»
(الفوائد (59) .
یعنی:لوگ جہنم میں تین دروازوں سے داخل ہوں گے:
ایک شبہات کادروازہ،شبہات دین میں شک پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
دوسرا:شہوتوں کادروازہ ،جن کی وجہ سے لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خوشنودی پر اپنی رائے مقدم کربیٹھتے ہیں۔
(تیسرا:غضب کادروازہ،جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے ساتھ عداوتوں کو جنم دیتاہے۔(واللہ المستعان

عَنْ أَبِي عَبَّاسٍ عَبْدِ اللهِ بنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النبي صلى الله عليه وسلم يَومَاً فَقَالَ: (يَا غُلاَمُ إِنّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللهَ يَحفَظك، احْفَظِ اللهَ تَجِدهُ تُجَاهَكَ، إِذَاَ سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَاَ اسْتَعَنتَ فَاسْتَعِن بِاللهِ، وَاعْلَم أَنَّ الأُمّة لو اجْتَمَعَت عَلَى أن يَنفَعُوكَ بِشيءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلا بِشيءٍ قَد كَتَبَهُ اللهُ لَك، وإِن اِجْتَمَعوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشيءٍ لَمْ يَضروك إلا بشيءٍ قَد كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ، رُفعَت الأَقْلامُ، وَجَفّتِ الصُّحُفُ) رواه الترمذي وقال: حديث حسن صحيح – وفي رواية – غير الترمذي: (اِحفظِ اللهَ تَجٍدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إلى اللهِ في الرَّخاءِ يَعرِفْكَ في الشّدةِ، وَاعْلَم أن مَا أَخطأكَ لَمْ يَكُن لِيُصيبكَ، وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُن لِيُخطِئكَ، وَاعْلَمْ أنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الفَرَجَ مَعَ الكَربِ، وَأَنَّ مَعَ العُسرِ يُسراً)
ترجمہ:ابوالعباس عبداللہ بن عباس رضي الله عنه سے مروی ہے، فرماتے ہیں:میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھا،آپ نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! میں تجھے چندباتوں کی تعلیم دیتاہوں: تواللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا،جب بھی کچھ مانگنا ہو،اللہ تعالیٰ سے مانگ، اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو،اللہ تعالیٰ سے طلب کر،اچھی طرح جان لے اگر ساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچاناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سواکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی اور اگر ساری امت اکٹھی ہوکر تیراکوئی نقصان کرناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے نوشتۂ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی، قلم اٹھالئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔(اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت فرمایا ہےاور اسے (حسن صحیح) قراردیاہے،ترمذی کے علاوہ بعض دیگر کتب میں یہ بھی مروی ہےکہ تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرہمیشہ اسے اپنے سامنے پائے گا،آسانیوں اور آسائشوں میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی پہچان کروا،وہ تجھے سختیوں میں پہچان لیاکرے گا،خوب جان لے کہ جو چیز تجھے نہیں مل سکی ،اس کا مل جانا ممکن نہیں اور جو چیز تجھے مل چکی اس کا نہ ملنا ممکن نہیں،اورخوب جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہےاور مصیبتوں کا ٹل جانا پریشانیوں کے ساتھ ہے،اور بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔(حدیث کے اس حصے کو امام حاکم نے اپنی مستدرک میں روایت فرمایا ہے:۳؍۶۲۴،امام ذہبی نے تلخیص میں اسے غیرمعتمد قراردیاہے)
راویٔ حدیث یہ حدیث،رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم رضي الله عنه کی روایت سے ہے،ہجرتِ مدینہ سے تین سال قبل جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل بیت شعبِ ابی طالب میں محصور تھے،ان کی ولادت ہوئی، رسو ل اللہ ﷺ نے اپنے لعابِ مبارک سےان کی تحنیک فرمائی، ان کے مناقب بے شمار ہیں، سب سے ممتاز فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دومرتبہ اپنے سینے سے لگاکر علم وحکمت اور تفسیرِقرآن میں مہارت پیداہونے کی دعا سےنوازا،آپ مکمل طور پہ اس دعاکا مصداق ثابت ہوئے،یہی وجہ ہے کہ آپ کو (بحر)کے لقب سے نوازاگیا ، جس کامعنی :علم کاسمندر،اس کے علاوہ آپ کو( حبرالأمۃ) یعنی: امت کا عظیم عالم کالقب بھی حاصل ہے،تمام فنونِ علم سے واقفیت بلکہ مہارت موجود تھی ،جس کا سب سے بین ثبوت آپ کے بے شمار تفسیری اقوال اور فتاویٰ جات ہیں نیز لاتعداد شاگردبھی۔
خوارج سے مناظرہ کرکے انہیں لاجواب کردینا آپ کا عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے ہزاروں خوارج نے رجوع اختیارکرلیاتھا۔ آخری عمر میں نابیناہوگئے تھے(جس کی بڑی فضیلت واردہے)۔
سن 68ہجری میں طائف میں بعمر۷۱سال فوت ہوئے،فرضی اللہ عنہ وأرضاہ.
اہمیتِ حدیث
یہ حدیث کئی جملوں پر مشتمل ہے،ہر جملہ رسول اللہ ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہےاور بہت سے اعتقادی وتربوی امور کامجموعہ ہے۔
حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں سے کس قدر شفقت وملاطفت سے بھرپور سلوک فرماتے، ایک بچے کے ساتھ آپﷺ کاچلنااور اسے پندونصائح سے نوازنا اس کا بین ثبوت ہے۔
یہ حدیث نصیحت کے ایک خیرخواہانہ اور ناصحانہ اسلوب کا بھی شاہکار ہے،چنانچہ آپﷺ نے فوراً نصیحت شروع کرنے کی بجائے پہلے (یاغلام انی أعلمک کلمات) کہہ کر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول فرمائی،پھرنصیحت شروع کی۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچوں کو امورِ عقیدہ کی تعلیم دینی چاہئے، بلکہ عقیدہ کی جو اہمیت کتاب وسنت سے اجاگرہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیمِ دین میں اسی سے آغاز کیاجائے، یہ بات بھی معلوم ہے کہ بچپن کی بتائی گئی باتیں، نقش کی طرح بیٹھ جاتی ہیں اور ہمیشہ یاد رہتی ہیں،لہذا صغرسنی ہی سے عقیدہ کی تعلیم انتہائی نافع ثابت ہوگی۔
شرحِ حدیث
عبداللہ بن عباس رضي الله عنه رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے،یا تو سواری پر سوار تھے یا ویسے ہی آپﷺ کے پیچھے پیدل چل رہے تھے،آپ ﷺ نے انہیں (یاغلام ) یعنی: اے لڑکے!کہہ کر مخاطَب فرمایا، جو ان کے نوعمر بچہ ہونے کی دلیل ہے،رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت بھی قریب البلوغ تھے۔
آپﷺ نے عبداللہ بن عباس کی پوری توجہ حاصل کرنے کیلئے یہ جملہ ارشادفرمایا:(یاغلام انی أعلمک کلمات)یعنی:اے لڑکے! میں تجھے چندباتوں کی تعلیم دیتاہوں۔جس میں ملاطفت کا عنصربھی ہے اور نصیحت میں کمالِ حکمت کا اسلوب بھی۔(یعنی ان کی پوری توجہ حاصل کرکےنصیحت کا آغاز فرمایا)
آپﷺ کی یہ قیمتی نصیحتیں درج ذیل ہیں:
(۱)اِحْفَظِ اللهَ يَحفَظك.
تواللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا۔
یہ انتہائی عظیم الشان اور جلیل القدر نصیحت ہے، اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے مراد اس کی حدود اور اس کی شریعت کی حفاظت ہے، جو اس کے اوامر کوانجام دینے اور نواہی سے اجتناب برتنے سے مکمل ہوتی ہے،جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ دین کااس قدر علم حاصل کیاجائے کہ تمام عبادات اور معاملات شریعت کے مطابق انجام پاجائیں،جملہ امور پر رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کا رنگ ہونہ کہ اھواءِ نفس اور بدعات وخرافات کا۔
اگر ہم اس میں کامیاب ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ صلہ اور جزاء کے طور پر ہماری حفاظت فرمائےگا، جس میں دین ودنیا،مال وجان نیز اہل وعیال سب شامل ہیں۔
اس حدیث میں عمل اور اس کی جزاء کی ایک ہی جنس ثابت ہورہی ہے،یعنی بندہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے جملہ امور کی حفاظت فرماتاہے،بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطاء تو مزید بڑھ چڑھ کر حاصل ہوگی۔
[وَالَّذِيْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًى وَّاٰتٰىہُمْ تَقْوٰىہُمْ۝۱۷ ] ترجمہ:اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے ۔(محمد:۱۷)
واضح ہو کہ اس جملے کا مفہومِ مخالف یہ بنتا ہے کہ جوشخص اللہ تعالیٰ کی شریعت وحدود کی حفاظت نہیں کرتا،اللہ تعالیٰ بھی اس کی حفاظت نہیں  فرمائے گا،چنانچہ حفاظت وسلامتی کے جملہ اسباب سلب فرمالے گااور اسےآخرت کے دردناک عذاب کی ہولناک وعیدوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی تباہی وبربادی کے دھانے پر لاکھڑاکرےگا۔
(۲)احْفَظِ اللهَ تَجِدهُ تُجَاهَكَ.
تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا۔
اللہ تعالیٰ کو سامنے پانے کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت دین ودنیا کے تعلق سے ہرخیر کی رہنمائی فرمائے گا،جبکہ ہر شرکا ازالہ فرمادے گا۔
اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے قرب اورمعیت کا ہمیشہ احساس رہے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۶۴ۧ ](الانفال:۶۴)
ترجمہ:اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو(بھی) جو تیری پیروی کر رہے ہیں ۔
غورکیجئے! جس انسان کو اللہ تعالیٰ کافی ہوجائے اسے کسی قسم کا شر لاحق ہوسکتاہے؟وہ کسی خیر سے محروم ہوسکتا ہے؟اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دینِ حق سے برگشتہ ہونے دے گا؟
سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے کافی ہو؟جواب اسی حدیث میں موجودہے۔
احْفَظِ اللهَ تَجِدهُ تُجَاهَكَ.
تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا۔
(۳)وَ إِذَاَ سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ.
جب بھی کچھ مانگنا ہو،اللہ تعالیٰ سے مانگ۔
یہ جملہ توحید کا اصلِ عظیم ہے۔
یعنی جب بھی کوئی حاجت یاضرورت درپیش ہو، اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کرو، مخلوق سے قطعاًنہیں،اور اگر مخلوق سے کوئی ایسی شیٔ مانگنی پڑ جائے، جسے دینے کی وہ قدرت وصلاحیت رکھتی ہوتو اس سے طلب کرنا جائز ہے،مگر اس شرط کے ساتھ کہ آپ اسے اللہ تعالیٰ ہی کا عطاکردہ سبب قراردیں،مسببِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے،اگر وہ چاہے تو اس مخلوق کو وہ شیٔ تمہیں دینے سے روک دے،لہذا اصل اعتماد اورحقیقی توکل،اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پر قائم کیاجائے۔
(۴) وَ إِذَا اسْتَعَنتَ فَاسْتَعِن بِاللهِ.
اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو،اللہ تعالیٰ سے طلب کر۔
یہ جملہ بھی توحید کی انتہائی قوی اساس ہےاور سورۃ الفاتحہ کی اس آیتِ کریمہ کا حقیقی مصداق ہے:
[اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭ ] ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں، کسی اور کی نہیں۔
اور ہم خاص تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں،کسی اور سے نہیں۔
چنانچہ تمہیں جب بھی مدد مطلوب ہواللہ تعالیٰ ہی سے مانگو، کسی اور سے نہ مانگو؛کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی کےہاتھ میںآسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے،وہ جب چاہے آپ کی مدد فرمادےاور جب چاہے روک لے۔
اگر کسی مخلوق سےایسی مدد کی ضرورت پڑجائے جو اس کے احاطۂ قدرت میں ہے،تو اس میں کوئی مضائقہ یاحرج نہیں ہے،البتہ لازمی طور پہ یہ عقیدہ رکھاجائے کہ اسے میری مدد کیلئے اللہ تعالیٰ ہی نے سبب بنایاہے،اگر وہ چاہتا تو اسے مدد کرنے سے روک دیتا۔
لہذا ہر قلیل وکثیرمیں اللہ تعالیٰ ہی اصل مددگارہے،اگر وہ آپ کی مدد کا فیصلہ فرمالے توضرور کرے گا ،خواہ اس کی مدد کے اسباب آپ کو معلوم ہوںیا نہ ہوں۔
کوئی شخص اگر آپ کو کسی قسم کی مدد فراہم کردے تومسبب یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو قطعاً نہ بھلایاجائے ،بلکہ یہ عقیدہ رکھاجائے کہ اس شخص کا میری مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق وتیسیر ہی سے ممکن ہے۔
بہرحال اس حدیث کی واضح رہنمائی یہی ہے کہ ہر قسم کے سوال اور ہر قسم کی استعانت کیلئے اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پہ دستک دی جائے،جو نہ تو کبھی بندہوتا ہے اور نہ ہی کبھی اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی واقع ہوتی ہے:
یاعبادی لو أن أولکم وأخرکم وإنسکم وجنکم قاموا فی صعید واحد فسألونی، فأعطیت کل إنسان مسألتہ، مانقص ذلک مما عندی إلا کما ینقص المخیط إذا أدخل البحر.
اے میرے بندو!اگر تمہارے تمام اگلے و پچھلے اور تمام انسان وجن، ایک میدان میں جمع ہوکربیک وقت مجھ سے (جوچاہیں )مانگنے لگیں،اور میں اسی وقت سب کا سوال پوراکردوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں ہوگی،جو سوئی کے سمندر میں ڈبوکر نکالنے سے ،اس سمندر میں واقع ہوتی ہے۔
حدیث میں وارد یہ جملہ،اللہ تعالیٰ کی کمالِ قدرت اور کمالِ ملک کی زبردست دلیل ہے،نیز یہ کہ اللہ رب العزت کے خزانے کثرتِ عطاء کے باوجود ختم نہیںہوتے،خواہ اللہ تعالیٰ،جن وانس کے تمام اولین وآخرین کو آنِ واحد اور مقامِ واحد میں ان کی سوال کردہ تمام حاجات عنایت فرمادے، خواہ ان حاجات کا تعلق دین سے ہو جو کہ بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے، یا دنیا سے ہو۔
چونکہ سوال اور استعانت دونوں مسئلے عقیدۂ توحید کے ساتھ مربوط ہیں،لہذا جوشخص توحیدکے تقاضوں پر قائم رہتے ہوئے ہمیشہ صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتارہے اور اسی سے استعانت کرتا رہے،نیز نفیاً واثباتاً اس عقیدہ کو اپنالے،یعنی:اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سوال کیے جانے اور استعانت کیے جانے کی مستحق ہے،ا س کے علاوہ کوئی نہیں۔
ایسا بندہ عنداللہ موحد قرارپائے گا،اللہ تعالیٰ کے مقربین میں داخل ہوجائے گا اور دنیاوآخرت میں اس کی عنایات کا مستحق بن جائے گا۔
بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے والااور ہردم اسی سے امیدیں وابستہ کرنے والا،اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تمام گناہوں سے پاک صاف ہوسکتا ہے۔
(عن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلاَ أُبَالِي…..الحدیث)(جامع ترمذی:۳۵۴۰)
انس بن مالکtسے مروی ہے، میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:اللہ تعالیٰ فرماتاہے:اے آدم کے بیٹے جب تک تو مجھے پکارتارہے اور صرف میرے ساتھ امیدیں وابستہ کیے رکھے، تب تک میں بھی تجھے بخشتارہوںگا،تیرے گناہ جیسے بھی ہوںاور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s